بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 11 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جس کی آمدنی حرام ہے اس کے ساتھ کاروبای شراکت کرنا


سوال

ایک شخص جس کی آمدنی حرام ہے اس کے ساتھ کاروبای شراکت جائزہے؟ جب کہ کاروبار جائز اور حلال ہو!

جواب

جس کی کل یا اکثر آمدنی حرام ہے، اس کے ساتھ کاروبای شراکت جائز نہیں ہے ؛ اس لیے کہ اس مٰیں جو نفع ہوگا اس میں بھی  اس حرمت کا اثر آئے گا،اگر چہ کاروبار حلال ہو۔

البتہ اگر لاعلمی میں ایسی کوئی شراکت قائم کرلی ہو  تو جس کی آمدنی حرام ہے اے چاہیے کہ جتنی رقم حرام ملائی ہے اس کے بقدر اپنے پاس سے صدقہ کردے تو یہ کاروبار اور اس کی آمدنی حلال ہو گی۔  یا اگر حرام آمدنی والے شخص کے پاس حلال رقم موجود ہو اور وہ اس سے کاروبار میں شراکت کرے تو شراکت اور اس کا نفع جائز ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201805

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے