بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1441ھ- 05 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

جرابوں پر مسح کرنے کا حکم


سوال

کیا جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ وہ اونی یا سوتی موزے جن سے پانی چھن جاتا ہو یا وہ کسی چیز سے باندھے بغیر محض اپنی موٹائی کی وجہ سے پنڈلی پر کھڑے نہ رہ سکتے ہوں یا انہیں پہن کر تین شعی میل مسلسل چلنا ممکن نہ ہو ان پر مسح جائز نہیں ہے۔ موجودہ دور رائج اونی/ سوتی موزوں سے پانی بھی چھنتاہے اور  جوتے کے بغیر انہیں پہن کر مسلسل تین میل شرعی پیدل چلنے سے یہ پھٹ بھی جاتے ہیں، نیز ان کی بناوٹ کے اندر ربڑ/اِلاسٹک لگائی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ قدموں پر رکتے ہیں، محض اپنے گاڑھے پن کی وجہ سے نہیں رکتے؛  لہٰذا ان پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 10):
"وأما المسح على الجوربين، فإن كانا مجلدين، أو منعلين، يجزيه بلا خلاف عند أصحابنا وإن لم يكونا مجلدين، ولا منعلين، فإن كانا رقيقين يشفان الماء، لايجوز المسح عليهما بالإجماع". 
قط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200327

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں