بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

جب دو لوگ آپس میں بات کررہے ہوں تو ایک کو دسرے کی بات تک خاموش رہنا چاہیے


سوال

دو لوگ آپس میں گفتگو کر رہے ہوں تو ایک کی بات مکمل ہونے تک دوسرا خاموش رہے، اس کا اسلامی نقطہ نظر یعنی  حدیث کا حوالہ بتادیں!

جواب

اس طرح کی روایت جس میں  دوسرے کی بات ختم ہونے تک خاموش رہنے کا حکم ہو، نہ مل سکی، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صفات میں سے ہے کہ جب کوئی بات کرتا تو اس کی بات ختم ہونے تک خاموشی سے سنتے تھے۔

چناں چہ "شمائلِ ترمذی"  میں "باب ما جاء فی خلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" عنوان کے تحت امام ترمذی نے یہ حدیث روایت کی ہے کہ:

" وإذا تكلم أطرق جلساؤه، كأنما على رؤسهم الطير، فإذا سكت تكلموا، لايتنازعون عنده الحديث، ومن تكلم عنده  أنصتوا له حتى يفرغ، حديثهم عنده حديث أولهم..."

حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ  "خصائلِ نبوی" میں رقم طراز ہیں:

"جب آپ گفتگو فرماتے تو حاضرینِ مجلس اس طرح گردن جھکا کر بیٹھتے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، (کہ ذرا بھی حرکت ان میں نہ ہوتی تھی کہ پرند ذرا سی حرکت سے اڑ جاتا ہے)، جب آپ چپ ہو جاتے تب وہ حضرات کلام کرتے، (حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کے درمیان میں کوئی شخص نہ بولتا تھا، جو کچھ کہنا ہوتا حضور کے چپ ہونے کے بعد کہتا تھا)، آپ کے سامنے کسی بات میں نزاع نہ کرتے تھے، آپ سے جب کوئی شخص بات کرتا تو اس کے خاموش ہونے تک سب ساکت رہتے، ہر شخص کی بات (توجہ سے سننے میں) ایسی ہوتی جیسے پہلے شخص کی گفتگو، (یعنی بے قدری سے کسی کی بات نہیں سنی جاتی تھی، ورنہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ مجلس کی ابتدا میں تو توجہ تام ہوتی ہے، پھر کچھ دیر ہونے سے اکتانا شروع کر دیتے ہیں، اور کچھ بے توجہی ہوجایا کرتی ہے)۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201212

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں