بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

’’جا میں تنو طلاق دینا‘‘کے الفاظ سے طلاق کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ :

میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور دونوں نے ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہا اور بالآخر شوہر نے بیوی کو چار مرتبہ پنجابی زبان میں یہ الفاظ کہے کہ ’’جا میں تنو طلاق دینا‘‘۔ اب پوچھا یہ ہے کہ ان الفاظ سے کون سی اور کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ہیں؟

جواب

شوہر نے بیوی سے چار مرتبہ جو مذکورہ الفاظ کہے ہیں کہ  ’’جا میں تنو طلاق دینا‘‘ان الفاظ سے تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، اور بیوی اپنے شوہر پر حرام ہوچکی ہے،اب دونوں کااکٹھے رہناجائز نہیں ہے،اور تین طلاق دینے کے بعد رجوع بھی نہیں ہوسکتا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143906200097

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں