بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

جانور کی جفتی پر اجرت


سوال

جفتی پراجرت لینا کیسا ہے؟

جواب

نر جانور کو  جفتی کرنے اور نسل بڑھانے کے لیے کرایہ پر دینا اور اس جفتی کی اجرت لینا دینا دونوں ناجائز ہیں، حدیثِ مبارک  میں اس سے ممانعت وارد ہوئی ہے۔ البتہ بغیر اجرت کے بطورِ عاریت کے یا بطورِ ہدیہ کے دینا جائز ہے۔

سنن الترمذي ت شاكر (3/ 564 و 565):
" عن نافع، عن ابن عمر قال: «نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل».  وفي الباب عن أبي هريرة، وأنس، وأبي سعيد: حديث ابن عمر حديث حسن صحيح، والعمل على هذا عند بعض أهل العلم، وقد رخص بعضهم في قبول الكرامة على ذلك.
و عن أنس بن مالك، أن رجلاً من كلاب سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل؟ «فنهاه» ، فقال: يا رسول الله، إنا نطرق الفحل فنكرم، «فرخص له في الكرامة»". 

شرح مختصر الطحاوي للجصاص (3/ 97):
"قال: (ولايجوز بيع عسب الفحل).
قال أحمد: يعني ما يلقح، وذلك لأنه من الملاقيح، وقد نهى عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم. وروى ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم "نهى عن عسب الفحل". وقال جابر: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ضرب الفحل".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201266

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے