بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جاز کیش کی سروس استعمال کرنے کا حکم


سوال

کیا جاز کیش کی صحت سہولت کی سروس استعمال کی جا سکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ہماری تحقیق کے مطابق جاز کیش اور مائیکرو انشور کے درمیان شراکت داری کا اتحاد قائم ہوا ہے۔ اس اتحاد کے تحت مائیکرو انشور، جو بڑی مارکیٹوں میں بیمہ کی فراہمی کے عالمی راہ نما ہیں، جاز کیش کے کسٹمرز کو معمولی فیس پر چھوٹے پیمانے پر بیمہ صحت سہولت فراہم کرے گا، جب کہ یہ بات طے ہے کہ مروّجہ انشورنس کمپنیوں کا طریقۂ کار سود اور قمار (جوا) کا مجموعہ اور مرکب ہے اور یہ دونوں (سود اور جوا) شرعاً حرام اور ناجائز ہیں۔

لہٰذا صورتِ  مسئولہ میں جاز کیش کی صحت سہولت کی سروس کا استعمال کرنا شرعاً ناجائز ہے۔

وفي رد المحتار لابن عابدين:

«لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص ... الخ»  (كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص: 403، ط: سعيد)

وفي بدائع الصنائع للكاساني:

«(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لايكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحاً، أو أقرضه وشرط شرطاً له فيه منفعةً؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعاً؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لايقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض ... الخ»  (كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض، ج:7، ص: 395، ط: دارالكتب العلمية)

وفي الهداية للمرغيناني:

«(ولايجوز بيع السمك قبل أن يصطاد) ... (ولا بيع الحمل ولا النتاج) لنهي النبي عليه الصلاة والسلام عن بيع الحبل وحبل الحبلة، ولأن فيه غررٍ.  (ولا اللبن في الضرع للغرر) فعساه انتفاخ، ولأنه ينازع في كيفية الحلب، وربما يزداد فيختلط المبيع بغيره».

وفي العناية شرح الهداية لمحمد البابرتي:

«(ولا) يجوز (بيع الحمل) أي الجنين ... وكانوا في الجاهلية يعتادون ذلك فأبطله رسول الله صلى الله عليه وسلم ولأن فيه غررا وهو ما طوي عنك علمه. قال المغرب في الحديث: «نهى عن بيع الغرر»: وهو الخطر الذي لا يدري أ يكون أم لا كبيع السمك في الماء والطير في الهواء ... الخ».  (كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:6، ص: 411، ط: دار الفكر) فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144012200933

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے