بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 جمادى الاخرى 1441ھ- 16 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

جاز کیش اکاؤنٹ کھولنے کی دعوت دینا


سوال

آج کل جاز کیش ایپ سے اگر کسی دوست کو مدعو  کریں جاز کیش اکاؤنٹ کھولنے پر، اور وہ دوست آپ کی  دعوت پر اکاؤنٹ کھولے تو کمپنی والے اکاؤنٹ بنانے والے کو 100 روپے اور جس نے دعوت دی تھی اس کو پچاس روپے دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ پیسے دونوں کے لیے جائز ہیں یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ موبائل فون  کی  مختلف کمپنیوں کی جانب سے مختلف ناموں سے اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، (مثلاً جاز کیش اکاؤنٹ، ٹیلی نار ایزی پیسہ اکاؤنٹ وغیرہ)، جس میں طے شدہ بیلنس  رکھنے  کی شرط پر کمپنی کی طرف سے  مختلف سہولیات اکاؤنٹ ہولڈر  کو مہیا کی جاتی ہیں؛ جیسے: فری منٹ، فری ایس ایم ایس و غیرہ، تو ایسے اکاؤنٹ کھلوانے کا حکم یہ ہے کہ اگر کمپنی سے مقررہ  رقم رکھنے کی شرط پر سہولیات فراہم ہی نہیں کی جائیں تو اس صورت میں ایسا اکاؤنٹ کھلوایا جا سکتا ہے۔ 

تاہم اگر کمپنی کی طرف سے مقررہ اضافی سہولیات فراہم کی جاتی ہوں، چاہے کوئی لینا چاہے یا نہ چاہے(اور ہماری اطلاعات کے مطابق صورتِ حال اسی طرح ہے) تو ایسی صورت میں ایسا اکاؤنٹ درحقیقت سودی ہوتا ہے، جسے کھلوانے کی شرعاً اجازت نہیں؛ کیوں کہ کمپنی میں اکاؤنٹ ہولڈر کی جانب سے جو  رقم جمع کرائی جاتی ہے وہ کمپنی کے ذمہ قرض ہوتی ہے اور اکاؤنٹ ہولڈر جب اپنی رقم واپس لینا چاہے کمپنی رقم واپس کرنے کی پابند ہوتی ہے، اور قرض پر کسی بھی قسم کا مشروط نفع از روئے شرع سود ہونے کی وجہ سے حرام ہوتا ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں ایسا اکاؤنٹ نہ  کھلوانا جائز  ہے اور نہ دوسرے کو اس کی طرف مدعو کرنا جائز ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200475

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے