بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1441ھ- 12 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

جائے ملازمت میں قصر


سوال

میں سرکاری استاذ ہوں، ہمارا سکول ہمارے گاؤں سے تقریباً 70کلو میٹر دور ہے، میں وہاں ہفتہ گزارتا ہوں اور اتوارکو گھر آتا ہوں، کیا وہاں سکول میں قصر نماز پڑھوں گا یا پوری؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی مسافتِ سفر سوا ستتر کلومیٹر ہے، اس سے کم سفر کی صورت میں آدمی شرعاً مسافر نہیں کہلاتا، لہٰذا اگر آپ کا اسکول آپ کے گاؤں سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے تو یہ شرعی مسافتِ سفر نہیں ہے، اس صورت میں آپ دونوں جگہ پوری نماز پڑھیں گے۔

اور اگر آپ کا اسکول آپ کے گاؤں سے کم از کم سوا ستتر کلومیٹر دور ہے اور آپ اسکول جاکر صرف ہفتہ گزار کر واپس آجاتے ہیں اور ایک مرتبہ بھی آپ پندرہ دن وہاں نہیں ٹھہرے تو آپ اسکول میں تنہا نماز پڑھتے ہوئے یا امامت کراتے ہوئے چار رکعات والی فرض نماز میں قصر کریں گے۔ البتہ اگر آپ ایک دفعہ بھی اسکول میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہر گئے تو اسکول والا گاؤں آپ کا وطنِ اقامت بن جائے گا، پھر جب تک نوکری کے سلسلے میں وہاں آپ کا آنا جانا لگا رہے اور آپ کا ضروری سامان وہاں موجود رہے تو ہر مرتبہ پندرہ دن کی نیت سے ٹھہرنا ضروری نہیں ہوگا، بلکہ جب تک سامان اٹھا کر آپ وہاں سے منتقل نہیں ہوتے اس وقت تک آپ وہاں  ہمیشہ پوری نماز پڑھیں گے، چاہے تین، چار دن کا قیام ہی کیوں نہ ہو۔

بصورتِ مسئولہ آپ اپنے گاؤں اور اسکول کے درمیان مسافت کی تحقیق کرکے مذکورہ تفصیل کے مطابق عمل کیجیے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 147):

"كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر ... وأما وطن الإقامة فهو الوطن الذي يقصد المسافر الإقامة فيه، وهو صالح لها نصف شهر". (باب صلاۃ المسافر ،ج:۴/ ۱۱۲ ،ط:سعید ) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144106201037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں