بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1441ھ- 22 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

"طلاقِ ثلاثہ سے آزاد کرتا ہوں" لکھ کر طلاق دینے کا حکم


سوال

ایک آدمی نے دوسری شادی کی پہلی بیوی کو بغیر بتائے؛ کیوں کہ شر اور فساد کا اندیشہ تھا۔ مگر بعد میں پہلی بیوی اور سسرالیوں کے شدید دباؤ کی وجہ سے اگر سائل لکھے کہ طلاقِ ثلاثہ سے آزاد کرتا ہوں۔تو کیا یہ طلاق ایک واقع ہوگی یا تین؟ اگر تحریر کا موضوع دیا گیا ہو لکھ کے، حال آں کہ سائل کا ارادہ ایک طلاق کا ہو تو کیا یہ طلاق تین واقع ہوگی یا ایک ہی؟  اور اگر یہ رجعی میں آئے تو اس کے رجوع کا کیا حکم ہے؟ اگر سائل ملک سے باہر ہو تو رجوع کا کیا طریقہ ہے؟ صرف رجوع کا کہنا زبان ہی سے کافی ہے یا بیوی کا حاضر ہونا ضروری ہے؟

جواب

اگر سائل نے  لکھا ہے  کہ دوسری بیوی کو طلاقِ ثلاثہ سے آزاد کرتا ہوں یا اس لکھے ہوئے پر دستخط کیا، تو اس سے اس کی دوسری بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ  جدا ہو گئی ۔اب رجوع ممکن نہیں، عدت گزرنے کے بعد سائل کی دوسری بیوی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200603

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے