بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تیس لاکھ کی گاڑی قسطوں پر ساٹھ لاکھ کی فروخت کرنا


سوال

اگر ایک گاڑی کی قیمت تیس 30 لاکھ ہے،  قسطوں کے حساب سے  اس  گاڑی کی قیمت ساٹھ لاکھ  مقرر کرنا اور وصول کرنا،  کیا یہ جائز ہے؟

جواب

ہر شخص  کے  لیے اپنی مملوکہ  چیز  کو  اصل قیمت میں کمی زیادتی کے ساتھ نقد  اور ادھار دنوں طرح  فروخت کرنے کا شرعاً اختیار ہوتا ہے، اور جس طرح ادھار پر سامان  فروخت کرنے والا اپنے سامان کی قیمت یک مشت وصول کرسکتا ہے ، اسی  طرح اس کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے  کہ وہ اس رقم کو قسط وار وصول کرے،  اسے اصطلاح میں ”بیع بالتقسیط“  یعنی قسطوں پر خرید و فروخت  کہتے ہیں۔

 قسطوں پر خرید وفروخت میں  درج ذیل  شرائط کا لحاظ  اور رعایت کرنا شرعا ضروری ہے:

1۔ قسط کی رقم متعین ہو۔

2۔  مدت متعین ہو۔

3۔  معاملہ متعین ہو کہ نقد کا معاملہ کیا جارہا ہے یا ادھار۔

4۔ عقد کے وقت  کل مجموعی  قیمت متعین ہو۔

5۔ کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کل مجموعی قیمت  میں اضافہ (جرمانہ) وصول نہ کیا جائے، اور جلد ادائیگی کی صورت میں قیمت کی کمی عقد میں مشروط نہ ہو، اس لیے کہ  اگر  بوقتِ عقد یہ شرط ہوگی تو پورا معاملہ ہی فاسد ہوجائے گا۔

مذکورہ بالا شرائط کی رعایت کے ساتھ قسطوں پر خریدوفروخت کرنا جائز ہے۔

شریعتِ مطہرہ نے چیزوں کی خرید و فروخت میں منافع کی تحدید نہیں کی ہے، البتہ مارکیٹ میں کسی چیز کی جتنی قیمت رائج ہو اس سے زیادہ قیمت مقرر کرنا مناسب نہیں ہے، لہٰذا قسطوں پر کوئی چیز فروخت کرنے کی صورت میں اتنی قیمت مقرر کرنی چاہیے جتنی قیمت پر  مارکیٹ  میں اس چیز  کا ادھار پر  ملنا معروف ہو، اس سے زیادہ قیمت مقرر کرنا مناسب نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ گاڑی کی ادھار پر خریداری کی صورت میں مذکورہ بالا شرائط کی پابندی کرتے ہوئے خرید و فروخت جائز ہوگی، تاہم اس کی قیمت کے تعین میں مارکیٹ ویلیو  کی رعایت کرنی چاہیے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200811

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں