بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1441ھ- 22 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

تنخواہ دار ملازم ضروریات کے لیے زکاۃ لے سکتا ہے؟


سوال

میں ملازمت پیشہ ہوں، ماہانہ آمدنی بیس سے پچیس ہزار ہے، الحمداللہ تین بچے اور اہلیہ سمیت فیملی میں پانچ افراد ہیں، گھر ذاتی ہے، آج کے دور میں اِتنی آمدنی میں بنیادی گُزارا بہت مشکل ہوتا جارہا ہے،  بچوں کی تعلیم،  گھر کا راشن، صحت کے معاملات،  بلِوں کی ادائیگی،  یہ سب اب دن بہ  دن بھاری ہوتا جا رہا ہے، جن کے پاس ملازمت کرتا ہوں تقریباً دو سال سے تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا،  جب بھی کہو تو کہتے ہیں کہ ابھی ممکن نہیں، کئی بار کوشش کی کہ کہیں اور ملازمت کرلوں ، لیکن وہاں بھی تنخواہ ضرورت کے مطابق نہیں، اہلیہ کا زیور اور میری زندگی کی تمام تر جمع کی ہوئی رقم گھر کو خریدنے میں لگ چکی ہے، اب گھر کے علاوہ اور کوئی سرمایہ نہیں، بس تنخواہ پر ہی گزر بسر ہے۔

مجھے یہ جاننا ہے کہ بنیادی ضروریات میں جو خلا پُر کرنا ہے، کیا میں وہ زکاۃ کی رقم سے پوری کرسکتا ہوں؟  دوست احباب میری تمام تر حقیقت سے واقف ہیں اور وہ تیار بھی ہیں۔

جواب

بیان کردہ صورتِ  حال کے مطابق آپ ضروریات پوری  کرنے کے لیے زکاۃ لے سکتے ہیں۔
"قَالَ فِي الْبَدَائِعِ: قَدْرُ الْحَاجَةِ هُوَ مَا ذَكَرَهُ الْكَرْخِيُّ فِي مُخْتَصَرِهِ فَقَالَ: لَا بَأْسَ أَنْ يُعْطِيَ مِنْ الزَّكَاةِ مَنْ لَهُ مَسْكَنٌ، وَمَا يَتَأَثَّثُ بِهِ فِي مَنْزِلِهِ وَخَادِمٌ وَفَرَسٌ وَسِلَاحٌ وَثِيَابُ الْبَدَنِ وَكُتُبُ الْعِلْمِ إنْ كَانَ مِنْ أَهْلِهِ، فَإِنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ عَنْ ذَلِكَ تَبْلُغُ قِيمَتُهُ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ حَرُمَ عَلَيْهِ أَخْذُ الصَّدَقَةِ، لِمَا رُوِيَ عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ: كَانُوا يَعْنِي: الصَّحَابَةَ يُعْطُونَ مِنْ الزَّكَاةِ لِمَنْ يَمْلِكُ عَشَرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ مِنْ السِّلَاحِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ وَالْخَدَمِ، وَهَذَا؛ لِأَنَّ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ مِنْ الْحَوَائِجِ اللَّازِمَةِ الَّتِي لَا بُدَّ لِلْإِنْسَانِ مِنْهَا.
وَذُكِرَ فِي الْفَتَاوَى فِيمَنْ لَهُ حَوَانِيتُ وَدُورٌ لِلْغَلَّةِ لَكِنَّ غَلَّتَهَا لَا تَكْفِيهِ وَعِيَالَهُ أَنَّهُ فَقِيرٌ وَيَحِلُّ لَهُ أَخْذُ الصَّدَقَةِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ، وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ لَا يَحِلُّ وَكَذَا لَوْ لَهُ كَرْمٌ لَا تَكْفِيهِ غَلَّتُهُ؛ وَلَوْ عِنْدَهُ طَعَامٌ لِلْقُوتِ يُسَاوِي مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَإِنْ كَانَ كِفَايَةَ شَهْرٍ يَحِلُّ أَوْ كِفَايَةَ سَنَةٍ، قِيلَ لَا تَحِلُّ، وَقِيلَ يَحِلُّ؛ لِأَنَّهُ يَسْتَحِقُّ الصَّرْفَ إلَى الْكِفَايَةِ فَيُلْحَقُ بِالْعَدَمِ، وَقَدْ ادَّخَرَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - لِنِسَائِهِ قُوتَ سَنَةٍ، وَلَوْ لَهُ كِسْوَةُ الشِّتَاءِ وَهُوَ لَا يَحْتَاجُ إلَيْهَا فِي الصَّيْفِ يَحِلُّ ذِكْرُ هَذِهِ الْجُمْلَةِ فِي الْفَتَاوَى. اهـ.
وَظَاهِرُ تَعْلِيلِهِ لِلْقَوْلِ الثَّانِي فِي مَسْأَلَةِ الطَّعَامِ اعْتِمَادُهُ.
وَفِي التَّتَارْخَانِيَّة عَنْ التَّهْذِيبِ أَنَّهُ الصَّحِيحُ وَفِيهَا عَنْ الصُّغْرَى لَهُ دَارٌ يَسْكُنُهَا لَكِنْ تَزِيدُ عَلَى حَاجَتِهِ بِأَنْ لَا يَسْكُنَ الْكُلَّ يَحِلُّ لَهُ أَخْذُ الصَّدَقَةِ فِي الصَّحِيحِ وَفِيهَا سُئِلَ مُحَمَّدٌ عَمَّنْ لَهُ أَرْضٌ يَزْرَعُهَا أَوْ حَانُوتٌ يَسْتَغِلُّهَا أَوْ دَارٌ غَلَّتُهَا ثَلَاثُ آلَافٍ وَلَا تَكْفِي لِنَفَقَتِهِ وَنَفَقَةِ عِيَالِهِ سَنَةً؟ يَحِلُّ لَهُ أَخْذُ الزَّكَاةِ وَإِنْ كَانَتْ قِيمَتُهَا تَبْلُغُ أُلُوفًا وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى وَعِنْدَهُمَا لَا يَحِلُّ اهـ مُلَخَّصًا. [رد المحتار : ٢/ ٣٤٧-٣٤٨]
فقط واللہ اعلم

نوٹ: یہ جواب محض شرعی مسئلے کا بیان ہے، اسے تعاون کی وصولی کے لیے سند نہ بنایا جائے۔ 


فتوی نمبر : 144102200167

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے