بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

’’تم نے اگراس نلکے سے پانی پیاتوتمہیں تین طلاق‘‘ کہنے کا حکم


سوال

شوہر نے بیوی سے کہا:"تم نے اگراس نلکے سے پانی پیاتوتمہیں تین طلاق"، اب اس نلکے کے پانی سے کھانابھی بنتاہے اور وضوبھی ہوتاہے،اور وضومیں حلق میں پانی جاسکتاہے ، توکیاحکم ہے؟اور کیاگھرکے سارے نلکے اس زمرہ میں آجائیں گے یا فقط وہی ایک نلکا؟اور جب شوہرسے کہاگیاکہ: اس سے کھانابھی بنتاہے وغیرہ تواس نے کہاکہ فقط پانی نہیں پیناکھاناوغیرہ بنالینا۔تواس صورت کاکیاحکم ہے؟

جواب

سوال کے مطابق شوہرنے ایک نلکامتعین کرکے بیوی سے کہاکہ:’’تم نے اگراس نلکے سے  پانی پیاتوتمہیں تین طلاق‘‘ تواس صورت میں مذکورہ نلکاہی متعین ہوگا،جب کبھی عورت اس نلکے سے (منہ لگاکریاکسی برتن میں ڈال کر)پانی پیے گی تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔چوںکہ ایک نلکامتعین کیاہے، اس لیے دیگرنلکوں سے پانی پینے کی صورت میں شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے طلاق واقع نہ ہوگی۔

متعین نلکے کے پانی سے اگرکھانابنایاجائے یاوضوکے دوران حلق میں پانی چلاجائے تو اس سے طلاق نہ ہوگی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143805200035

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے