بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

"تم میرے لیے حرام ہو" بیوی کو کہنے کا حکم


سوال

میری کزن کے شوہر کو 8 سال پہلے شوگر کی بیماری ہوئی،   جس کی وجہ سے وہ 8 سالوں میں کوئی ازدواجی تعلق نہیں قائم کر سکا۔ گزشتہ تین سالوں سے وہ بیرونِ ملک میں ہے اور اپنے پاس اپنی بیوی کو بلاتا ہے جس پر وہ منع کرتی ہے، پھر اس کے جواب میں شوہر کئی مرتبہ کہہ چکا ہے کہ ’’تم میرے لیے حرام ہو‘‘۔ ایک جھگڑا اگست 2019 میں ہوا جس پر اس نے کہا: ’’میں نے تجھے ایک طلاق دی اور تجھ پر نافذ ہوگئی‘‘۔  پھر 90 دن گزرے اور کوئی رجوع نہیں ہوا تھا۔ اس نے میری کزن کے باپ، بھائی، ماں، خالہ ماموں وغیرہ سب کو اعلان کردیا تھا طلاق کا۔ اب وہ دعوی کر رہا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی اور دنیا کا کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ طلاق ہوگئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا طلاق ہوئی؟

اس میں ازدواجی کم زوری بھی ہے تو کیا اب نکاح ہوسکتا ہے؟

کیا اب اسے 2 اور طلاقیں دینی ہوں گی؟

جواب

’’تم میرے لیے حرام ہو‘‘  کہنے سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے۔ پھر دوبارہ یہ جملہ کہنے سے دوسری طلاق واقع نہیں ہوتی؛ لہذا جب پہلی مرتبہ آپ کی کزن کے شوہر نے یہ الفاظ کہے تھے تو  آپ کی کزن پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی تھی، اور عدت گزر جانے کے بعد آپ کی کزن کا نکاح ختم ہوگیا تھا۔ بعد میں کہے گئے الفاظ ’’تم میرے لیے حرام ہو‘‘ سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔ اسی طرح  ’’میں نے تجھے ایک طلاق دی اور تجھ پر نافذ ہوگئی‘‘  اگر عدت گزر جانے کے بعد کہے گئے ہیں تو ان الفاظ سے بھی مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ آپ کی کزن عدت گزر جانے کے بعد دوسری جگہ نکاح بھی کر سکتی ہے، اور اسی سے دوبارہ نکاح بھی کر سکتی ہے گو اس میں ازدواجی کم زوری موجود ہو۔ بہرحال نکاح ختم ہوچکا ہے، مزید دو طلاقیں واقع کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 314):
"وقد مر أن "أنت حرام" ملحق بالصريح فلايحتاج إلى نية، فلعل هذا مبني على غير المفتى به ط. قلت: وهو المتعين".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 308):
"(لا) يلحق البائن (البائن)". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144106200522

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں