بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الثانی 1441ھ- 09 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دو بیویوں کو تم دونوں طلاق ہو کہنے کا حکم


سوال

ایک شخص کی دوبیویاں ہیں، ان میں سےپہلی والی بیوی کووہ تین طلاقیں دیتاہے جب کہ دوسری بیوی بھی وہیں  پرموجودہوتی ہے، پھردونوں سےمخاطب ہوکر کہتاہے: تم دونوں طلاق ہو، میرےگھرسےچلی جاؤ۔  تودونوں چلی گئیں۔اب مذکورہ شخص کی دوسری بیوی پربھی طلاق ہوگی یا نہیں؟اگرطلاق ہوتی ہےتوکون سی طلاق ہوگی؟

جواب

پہلی بیوی کو تین طلاقیں صراحۃً  دی تھیں، اس پر تو اسی وقت تین طلاقیں واقع ہوگئی تھیں، پھر جب دونوں بیویوں سے مخاطب ہوکر یہ کہا کہ تم دونوں طلاق ہو،  میرے گھر سے چلی جاؤ،  اس سے پہلی بیوی پر تو مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ دوسری بیوی پر ایک طلاقِ  رجعی واقع ہوگئی ہے، عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہے، آئندہ شوہر کو صرف دو طلاقوں کاحق رہے گا۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200723

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے