بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 28 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

تقسیم وراثت


سوال

میرے والدِ محترم کا انتقال ہوگیا، ورثا میں 2 بھائی اور 3 بہن ہیں،  ترکہ ایک مکان جس کی قیمت 14 لاکھ 61 ہزار آچکی ہے،  اسے2 بھائی اور 3بہن میں کیسے تقسیم کیا جائے؟

جواب

جواب سے پہلے واضح رہے کہ سوال میں بظاہر بھائی اور بہن سے مستفتی کی مراد میت کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، جیساکہ اس نے سوال کی ابتدا میں کہا ہے کہ میرے والدِ محترم کا انتقال ہوگیا ہے، اس صورت کے مطابق اگر مرحوم کے ورثاء میں صرف دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہوں اور میت کے حقوقِ متقدمہ کی ادائیگی کی جاچکی ہو تو سوال میں مذکورہ رقم (چودہ لاکھ، اکسٹھ ہزار روپے)  میں سے میت کے ہر ایک بیٹے کو 417,428.57 روپے (چار لاکھ، سترہ ہزار، چار سو اٹھائیس روپے، ستاون پیسے) اور ہر  ایک بیٹی کو 208,714.28 روپے (دو لاکھ، آٹھ ہزار، سات سو چودہ روپے اٹھائیس پیسے) ملیں گے۔

نوٹ1 :اگر میت کی وفات کے وقت اس کے والدین میں سے کوئی زندہ تھا، یا اس کی بیوہ (سائل کی حقیقی یا سوتیلی والدہ) زندہ ہے تو تقسیم مختلف ہوگی۔ 

نوٹ2: اگر سوال میں مذکورہ بھائی اور بہن سے مراد واقعۃً میت کے بھائی اور بہن مراد ہیں، یعنی جو سائل کے لیے چچا اور پھوپھی ہوں گے، اس صورت میں سائل کو چاہیے اپنے بہن بھائیوں (یعنی مرحوم کی اولاد) کی تعداد اور اس کی وضاحت کے ساتھ سوال دوبارہ ارسال کرے کہ والدِ مرحوم کے والدین اور مرحوم کی بیوہ حیات ہیں یا نہیں؟ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200553

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے