بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تعمیر کے ابتدائی مراحل میں فلیٹ کرایہ پر دینا


سوال

میں نے ایک عدد فلیٹ خرید ا جو کہ تعمیر کے  ابتدائی مراحل میں ہے، کمپنی کے  مطابق اگر میں ان کوفلیٹ کی پوری رقم یک مشت ادا کرلوں تو وہ مجھے ابھی سےہر ماہ کرایہ شروع کردیں گے،حال آں کہ ابھی تعمیر ابتدائی مراحل میں ہے۔ کیا ایسا کرنا سود میں شمار تو نہیں ہوگا؟

جواب

جب تک آپ کا فلیٹ قابلِ انتفاع نہ ہو جائے، اسے کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 4):
"وشرعاً (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثياباً أو أواني؛ ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو داراً لا ليسكنها أو عبداً أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201217

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے