بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تصویر سے خالی گیم بنانے کا حکم


سوال

کیا ایسا گیم بنانا جائز ہے کہ جس میں تصویر نہ ہو اور وہ گیم لوگ کھیلتے ہوں؟

جواب

گیم میں  اگرچہ  تصویر نہ بھی پائی جائے تب بھی گیم کھیلنے میں وقت کاضیاع اور دیگرکئی پہلوؤں سے مفاسد اور خرابیاں پائی جاتی ہیں ، اس بنا پر  اس طرح کا گیم بنانا  بھی کراہت سے خالی نہیں ہے ، لہٰذا گیم بنانے سے  اجتناب کیاجائے۔فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 143901200056

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے