بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جمادى الاخرى 1441ھ- 17 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی کچھ رکعتیں چھوٹنے کی صورت میں وتر جماعت سے پڑھے یا پہلے تراویح مکمل کرے؟


سوال

بعد میں تراویح میں شامل ہونے والا وتر جماعت کے ساتھ پڑھے گا یا اکیلے?

جواب

جو شخص تراویح  کی کچھ رکعت ہو جانے کے بعد پہنچا تو وہ پہلے تنہا فرض پڑھ کر امام کے ساتھ تراویح کی جماعت میں شریک ہوجائے، جب امام کی تراویح پوری ہوجائے تو وہ امام کے ساتھ وتر کی جماعت میں شامل ہوجائے اور بعد میں بقیہ تراویح پوری کرلے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 43)

'' (ووقتها بعد صلاة العشاء) إلى الفجر (قبل الوتر وبعده) في الأصح، فلو فاته بعضها وقام الإمام إلى الوتر أوتر معه ثم صلى ما فاته''.فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200223

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے