بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1441ھ- 20 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی پہلی دس رکعات میں ابتدا سے اور آخری دس رکعات میں سولہویں پارے سے پڑھنے کا حکم


سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں:

تراویح کے سلسلے میں دوحافظوں نے قرآن کو تقسیم کر لیا اس طور پر کہ ایک حافظ شروع کی دس رکعات میں پہلے پارہ سے پڑھائےگا۔ جب کہ دوسرا حافظ آخری دس رکعات میں ''قَالَ اَلَم''یعنی سولہویں پارے سے پڑھائےگا. کیا اس طرح قرآن پاک ختم کرنا درست ہے ؟

جواب

تراویح میں قرآن کریم سناتے ہوئے ترتیب سے قرآن کریم پڑھناچاہیے۔آپ نے جو طریقہ لکھا ہے کہ پہلی دس رکعات میں پہلاپارہ اور آخری دس رکعات میں سولہواں پارہ پڑھاجائے یہ طریقہ امت کے متوارث طریقے اور تعامل  کے خلاف ہے ؛ اس لیے ایسا کرنا درست نہیں۔دوسری دس رکعات میں ترتیب کے مطابق قرآن کریم پڑھاجائے۔

البتہ یہ طریقہ اختیار کیاجاسکتاہے کہ ایک حافظ شروع کے پندرہ پارے سنانے کے بعد بقیہ پندرہ پاروں کے لیے دوسرے حافظ کو مقررکردے۔

نیز تراویح میں امام ایک سے زائد ہوں تو بہتر یہ ہے کہ امام ترویحہ کے بعد بدلا جائے، درمیان میں نہیں، لہذا دو حافظ ہوں تو ایک آٹھ رکعت پڑھائے دوسرا بارہ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200244

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے