بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1441ھ- 06 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

رسول اللہ ﷺ کے مزاح سے متعلق ایک روایت کی تحقیق


سوال

إحياء علوم الدين (3 / 129):

وقال عطاء: إنّ رجلًا سأل ابن عباس أكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمزح؟ فقال: نعم، قال: فما كان مزاحه؟ قال: كان مزاحه أنه صلى الله عليه وسلم كسا ذات يوم امرأةً من نسائه ثوبًا واسعًا، فقال لها: البسيه واحمدي وجري منه ذيلًا كذيل العروس".

مذکورہ حدیث کی تحقیق بیان فرما دیں!

جواب

یہ روایت تاریخ ابن عساکر میں بھی موجود ہے، ملاحظہ فرمائیں: 

"أخبرنا أبو بكر المزرفي  وأبو القاسم بن السمرقندي وأبو الديارقوت  بن عبد الله قالوا: أنبأ أبو محمد الصريفيني أنا أبو طاهر المخلص أنا أبو عبد الله أحمد بن سليمان بن داود الطوسي نا أبو عبد الله الزبير بن بكار حدثني بكار بن رباح المكي عن ابن جريج عن عطاء بن أبي رباح عن ابن عباس أن رجلًا سأله، فقال: أكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمزح؟ قال ابن عباس: نعم! فقال الرجل: فما كان مزاحه؟ قال ابن عباس: إنه صلى الله عليه وسلم كسا ذات يوم امرأةً من نسائه ثوبًا واسعًا فقال لها: البسيه واحمدي الله وجري منه ذيلًا كذيل العروس". (تاریخ دمشق لابن عساکر : ۴/۴۱، ط: دارالفکر للطباعۃ والنشر )

البتہ ’’احیاء علوم الدین‘‘  کی تخریج کرنے والے حضرات نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث ہمیں نہیں ملی،  ملاحظہ فرمائیں، مذکورہ واقعہ کو ذکر فرمانے کے بعد کہتے ہیں : "لم أقف عليه".  (تخریج احیاء علوم الدین للعراقی :۴/۲۱۴)

علامہ علی المتقی رحمہ اللہ نے ابن عساکر رحمہ اللہ کے حوالہ سے نقل کرکے فرمایا کہ ابن عساکر نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، مذکورہ روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "كر و ضعفه".  (کنز العمال ، باب فی الصحبۃ والمزاح :۷/۳۵۶)

جن حضرات نے کلام کیا ہے انہوں نے ’’منکر الحدیث‘‘  قراردیا ہے، اس لیے روایت کے بیان کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے مزاح سے متعلق اور بھی صحیح قصے ہیں، انہیں بیان کرکے اس قسم کے قصوں سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200804

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں