بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1441ھ- 04 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

تحقیق حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور میں روٹی لگانا


سوال

کیا یہ حدیث صحیح ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ روٹیاں  بنا رہی تھیں، اتنے میں نبی علیہ السلام تشریف لائے اور انہوں  نے بھی ایک روٹی تنور میں لگائی، لیکن آگ نے اسے نہیں پکایا؛ کیوں کہ آپ علیہ السلام کا ہاتھ مبارک لگا ہوا تھا۔

جواب

تلاش بسیار کے باوجود یہ حدیث ہمیں یہ روایت نہیں ملی ، لہذا اس روایت کو بیان نہ کیاجائے۔

البتہ تاریخِ بغداد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے  رومال نہ جلنے کا ذکر ہے، مگر وہ بھی شدید ضعیف ہے،  ذیل میں یہ روایت ذکر کی جاتی ہے،  لیکن اس کا بیان کرنا درست نہیں ہے، عبارت یوں ہے:

"وأخبرنا الحسن حدثنا عبد الرحمن حدثنا أبو عمير الإنسي بمصر حدثنا دينار مولى أنس قال: صنع أنس لأصحابه طعامًا فلما طعموا قال: يا جارية هاتي المنديل، فجاءت بمنديل درن فقال: اسجري التنور واطرحيه فيه ففعلت، فأبيض فسألناه عنه، فقال: إن هذا كان للنبي صلى الله عليه و سلم، وإن النار لاتحرق شيئًا مسته أيدي الأنبياء". (تاریخ بغداد، ذکر من اسمه عبدالرحمن: ۱۰/۲۹۱، ط: دارالکتاب العربي)

اس روایت  میں دینار راوی شدید ضعیف ہے، ان کے بارے  میں ائمہ کے اقوال درج ذیل ہیں:

1-  قال ابن عدي: منکر الحدیث، ذاهبه، شبه مجهول.

2- قلت: یغلب علی ظني أنه کذاب، مالحق أنسًا أبدًا". (سیر أعلام النبلاء : ۱۰/۳۷۶)

3- قال ابن حبان: یروی عن أنس أشیاء موضوعة". (المغنی في الضعفاء: ۱/۳۴۰،ط: مکتبه عباس )

4- قال ابن عدي: ضعیف ذاهب". 

5- قال الحاکم: روی عن أنس قریبًا من مائة حدیث موضوعة". (لسان المیزان : ۳/۲۶، ط: دارالبشائر ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200391

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں