بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1442ھ- 23 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تجھ سے صحبت کروں تو بیٹی سے کروں کہنے کا حکم


سوال

اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ  اگر میں تجھ سے صحبت کروں تو گویا اپنی بیٹی سے صحبت کروں گا ۔ آیا اس کا تعلق ظہار سے ہے یا طلاق سے ہے؟

جواب

مذکورہ شخص کا یہ کلام مہمل اور بے ہودہ ہے، اس سے نہ طلاق واقع ہوتی اور نہ ظہار۔ البتہ اس طرح کے کلام سے اجتناب کرنا چاہیے۔(کفایت المفتی 6/441دارالاشاعت)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"لو قال : إن وطئتك وطئت أمي فلا شيء عليه، كذا في غاية السروجي". (الفصل التاسع في الظهار، 1/507 مکتبه رشیدیهکوئٹہ)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200368

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں