بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تجارت کی نیت کیے بغیر خریدے گئے پلاٹ پر زکاۃ کے وجوب کا حکم


سوال

میں نے 8 یا دس سال پہلے ایک پلاٹ خریدا تھا، خریدتے وقت کوئی حتمی نیت نہ تھی،  خریدتے وقت ذہن میں یہ تھا کہ بُرے وقتوں میں بھی کام آسکتا ہے، مکان بنانے کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہوں یا پھر اس پر دُکانیں بنا کر کرایہ پر بھی دے سکتا ہوں۔ یا پھر اسے بیچ کر ریٹا ئرمنٹ کے بعد کوئی کاروبار بھی کر سکتا ہوں۔ یا میرے بعد میرے بچوں کے بھی کام آسکتا ہے۔ کیا اس پلاٹ پر میرے لیے زکاۃ  ادا کرنالازم ہے یا نہیں؟

جواب

اگر آپ نے مذکورہ پلاٹ خریدتے وقت متعینہ طور پر تجارت (بیچ کر نفع کمانے ) کی نیت سے نہیں خریدا تھا تو اس پلاٹ کی زکاۃ ادا کرنا آپ کے ذمہ لازم نہیں ہے۔

’’ثم نیة التجارة والإسامة لاتعتبرمالم تتصل بفعل التجارة والإسامة ... ولو اشتری عروضاً للبذلة والمهنة ثم نوی أن تکون للتجارة بعد ذلک لاتصیر للتجارة مالم یبعها فیکون بدلها للتجارة؛ لأن التجارة عمل فلاتتم بمجرد النیة، بخلاف ما إذا کان للتجارة فنوی أن تکون للبذلة خرج عن التجارة بالنیة وإن لم یستعمله لأنها ترک العمل‘‘. (البحر الرائق، کتاب الزکاۃ، 2/225، 226) ط: سعید، کراچی) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200380

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے