بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تجارتی مال کی زکات میں قیمت فروخت کا اعتبار ہوتا ہے


سوال

ہماری دوکان میں مختلف نوعیت کا مالِ تجارت ہوتا ہے، مثلاً: شیشے و پلاسٹک کے برتن، بالٹی وغیرہ جو ہم نقد خریدتے ہیں، اس مالِ تجارت پر زکاۃ قیمت خرید پر آئے گی یا قیمتِ فروخت پر؟ کیوں کہ قیمتِ فروخت مختلف ہوتی ہے اور اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے!

جواب

اموالِ تجارت کی زکاۃ میں قیمتِ فروخت شرعاً معتبر ہوتی ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کی زکاۃ کا سال جس دن مکمل ہوتا ہے اس دن دوکان میں جتنی اشیاء موجود ہوں ان کی  اس دن کی قیمتِ فروخت کا حساب کرکے کل مالیت کا ڈھائی فیصد بطورِ زکاۃ ادا کرنا آپ پر لازم ہوگا۔  نیز  اگر بھاؤ تاؤکی وجہ سے قیمتِ فروخت مختلف ہوتی ہو تو اس صورت میں دوکان دار جس قیمت پر عموماً فروخت کرتا ہے اس قیمت کا اعتبار کرکے کل سرمایہ کا  حساب کیا جائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200869

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے