بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الثانی 1441ھ- 11 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تجارتی قرض زکاۃ سے منہا کرنے کا حکم


سوال

جو قرضے بینکوں سے بطورِ لون لیے جاتے ہیں، زکاۃ کے باب میں وہ مستثنیٰ کر کے باقی پر زکاۃ واجب ہو گی یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص طویل المیعاد قرض لیتا ہے، جیسے حکومتی قرض یابینکوں سے قرض لے کر قسطیں اداکرتاہے ،تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ ہر سال دیگر قابلِ زکاۃ اموال کی زکاۃ  کی ادائیگی کے وقت اس سال  واجب الادا قرضہ (یعنی مکمل قرضہ میں سے جتنی مقدار ادا کرنا اسی سال اس کے ذمہ پر ہو اس) کے بقدر  منہا کر کے باقی  رقم اور اموالِ تجارت کی زکاۃ ادا کی جائے گی بشرطیکہ باقی مال  نامی (سونا چاندی، نقدی، مالِ تجارت یا خام مال) نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) تک پہنچ رہا ہو۔

حاصل یہ ہے کہ طویل المیعادبھاری قرضوں کی کل رقم کو  زکاۃ کی ادائیگی کے وقت منہا نہیں کیاجائے گا۔بلکہ ایک سال کی اقساط جواداکرنی ہیں وہ منہاکی جائیں گی۔

لیکن یہ یاد رہے کہ : بینک سے قرض(لون) لے کر جو اضافی رقم دی جاتی ہے وہ سود ہے، جس  کا لینا ، دینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے،قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں  سودی معاملات کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں؛ اس لیے اس سے احتراز  لازم اور ضروری ہے،انجام کے لحاظ سے سودی قرضہ کاروبار میں ترقی کے بجائے تنزلی کا ذریعہ بنتاہے، لہذااپنی وسعت کے مطابق کام کرناچاہیے، تجارت  کے  لیے  سودی قرضہ  ہرگز نہیں لیناچاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166):

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاً حرام.

(قوله: كل قرض جر نفعاً حرام) أي إذا كان مشروطاً".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 259):

"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول؛ لحولانه عليه (تام) ... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200430

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے