بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

بیٹے محمد کو پکارتے ہوئے "ﷺ" کہنا


سوال

میرے بیٹے کا نام میں نے صرف ’’محمد‘‘  رکھا ہے۔تو کیا اب جب بھی میرے بیٹے محمد  کو ہم بلائیں  گے یا  محمد نام کہہ  کر آپس میں اس کا تذکرہ کریں  گے۔تو  ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘  کہنا پڑے گا؟ اور اگر بیٹے کو ہی محمد کہیں،  لیکن خیال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے  نام کی طرف غیر ارادی طور پر چلا جائے تو کیا صلی اللہ علیہ وسلم کہنا پڑے گا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے بیٹے ’’محمد‘‘  کا نام لیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ  کا خیال بھی آئے تو  بھی ﷺ  کہنا لازم نہیں۔ بلکہ بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے اس کے نام کے ساتھ ’’ﷺ‘‘ کہنا،  یا اس کا نام لکھتے ہوئے ’’ﷺ‘‘ لکھنا بھی نہیں چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200157

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے