بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے لیے کہا اس کو کلما طلاق دے رہا ہوں جب اس کو نکاح کروں وہ میرے لیے طلاق ہے


سوال

شوہر نے بیوی کے بارے میں کہا کہ ’’اس کو کلما  طلاق دے رہا ہوں جب اس کو نکاح کروں وہ میرے  لیے طلاق ہے‘‘،  اس صورت میں کون سی طلاق واقع ہوگی؟  نیز اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

شوہر کا بیوی کے بارے میں یہ کہنا کہ ’’اس کو کلما طلاق دے رہا ہوں‘‘  اس سے بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی اور اس کی بیوی اس کے نکاح میں ہے۔ آئندہ اسے طلاق کے الفاظ کہنے سے احتیاط کرنی چاہیے۔ اگر کبھی اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور تجدیدِ نکاح کی ضرورت پڑ جائے تو بیوی سے نکاح کرنے کی صورت میں اس پر ایک اور طلاق واقع ہوجائے گی اور شرط ختم ہوجائےگی، یعنی پھر سے نکاح کرنے سے بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔

تاہم مذکورہ شرط کی وجہ سے طلاق واقع ہونے سے بچنے کی صورت یہ ہوگی کہ کوئی فضولی (یعنی جو نہ شوہر کا وکیل ہو اور نہ ہونے والی بیوی کا) شوہر کی طرف سے ایجاب و قبول کرلے اور پھر شوہر خبر ملنے پر زبانی اجازت دینے کے بجائے ایسا فعل کرے جو نکاح کی اجازت پر دلالت کرتا ہو۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار (3/ 247):
’’قال في نور العين: الظاهر أنه لايصح اليمين؛ لما في البزازية من كتاب ألفاظ الكفر: إنه قد اشتهر في رساتيق شروان: أن من قال: جعلت كلما، أو علي كلما، أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل، ومن هذيانات العوام اهـ  فتأمل‘‘

فتح القدير للكمال ابن الهمام (4 / 106):
 (قوله: وأما كلمة إذا وإذا ما فهي كمتى عندهما) فما كان حكماً لمتى يكون حكماً لإذا)

"إذا قال: کل امرأة أتزوجها طالق، والحیلة فیه ما في البحر: أنه یزوجه فضولي و یجیز بالفعل، کسوق الواجب إلیها أو یتزوجها بعد ما وقع الطلاق علیها؛ لأن کلمة کل لاتقتضي التکرار". (ردالمحتار على الدرالمختار، کتاب الطلاق، باب التعلیق،، کراچی ۳/۳۴۵) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200160

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں