بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 جُمادى الأولى 1441ھ- 17 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی بھانجی کے ساتھ بد فعلی کی تو بیوی سے نکاح کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کی بھانجی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا۔ کیا اس شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ نکاح رہے گا یا ختم ہو جائے گا؟ اگر ختم ہو جائے تو بحال ہونے کی کیا صورت ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ نکاح برقرار ہے، البتہ جب تک بھانجی ایک ماہ واری سے پاک نہ ہوجائے اس وقت تک اپنی بیوی سے ہم بستری کی شرعاً اجازت نہیں ہوگی، اور اگر بھانجی اس زنا کی وجہ سے حاملہ ہو گئی تو جب تک ولادت نہ ہوجائے زانی کے لیے  اپنی بیوی سے ہم بستری کی شرعاً اجازت نہ ہوگی۔

باقی زنا کبیرہ گناہوں میں سے سخت ترین گناہ ہے، اور اس کے انسداد کے لیے شریعت نے غیر محارم سے پردے کا حکم دیا ہے، بیوی کی بھانجی سے پردہ کرنا چاہیے تھا، اس حوالے سے کوتاہی روا رکھی گئی جس کے نتیجے میں نوبت یہاں تک پہنچی ہے، اب مذکورہ گناہ پر سچے دل سے توبہ واستغفار اور آئندہ اس لڑکی سے مکمل پردے کا اہتمام لازم ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 38):

"(و) حرم (الجمع) بين المحارم (نكاحًا) أي عقدًا صحيحًا (وعدةً ولو من طلاق بائن، و) حرم الجمع (وطء بملك يمين بين امرأتين أيتهما فرضت ذكرًا لم تحل للأخرى)  أبدًا؛ لحديث مسلم: «لاتنكح المرأة على عمتها»".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 39):

"(قوله: أبدًا) قيد به تبعًا للبحر وغيره لإخراج ما لو تزوج أمةً ثم سيدتها فإنه يجوز؛ لأنه إذا فرضت الأمة ذكرًا لايصح له إيراد العقد على سيدته، ولو فرضت السيدة ذكرًا لايحل له إيراد العقد على أمته إلا في موضع الاحتياط، كما يأتي، لكن هذه الحرمة من الجانبين مؤقتة إلى زوال ملك اليمين، فإذا زال فأيتهما فرضت ذكرًا صح إيراد العقد منه على الأخرى، فلذا جاز الجمع بينهما، واحتيج إلى إخراج هذه الصورة من القاعدة المذكورة بقيد الأبدية، لكن هذا بناء على أن المراد من عدم الحل في قوله: "أيتهما فرضت ذكرًا لم تحل للأخرى" عدم حل إيراد العقد، أما لو أريد به عدم حل الوطء لايحتاج في إخراجها إلى قيد الأبدية؛ لأنها خارجة بدونه فإنه لو فرضت السيدة ذكرًا يحل له وطء أمته".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 28):

"(قوله: مصاهرة) كفروع نسائه المدخول بهن، وإن نزلن، وأمهات الزوجات وجداتهن بعقد صحيح، وإن علون، وإن لم يدخل بالزوجات وتحرم موطوءات آبائه وأجداده، وإن علوا ولو بزنى والمعقودات لهم عليهن بعقد صحيح، وموطوءات أبنائه وآباء أولاده، وإن سفلوا ولو بزنى والمعقودات لهم عليهن بعقد صحيح فتح، وكذا المقبلات أو الملموسات بشهوة لأصوله أو فروعه أو من قبل أو لمس أصولهن أو فروعهن (قوله: رضاع) فيحرم به ما يحرم من النسب إلا ما استثني كما سيأتي في بابه، وهذه الثلاثة محرمة على التأبيد". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200069

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے