بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو ”تم آزاد ہو“ کہنے کے بعد ”یہ لڑکی مجھ پر طلاق ہے“ تین مرتبہ کہنا


سوال

اگر کوئی بندہ بیوی سے لڑائی کے دوران اپنی بیوی سے تین بار بول دے کہ ”تم ازاد ہو“ ,  پھر وہ بندہ گھر سے باہرجاکر اپنی آپ سے کہے, وہ بھی تین بار کہے کہ  ”یہ لڑکی مجھ پر طلاق ہے“ تو اس کا کیا نتیجہ  نکلتا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جب مذکورہ شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ”تم ازاد ہو“ اور پھر گھر سے باہر جاکر اپنے آپ سے تین بار یہ بھی کہا کہ ”یہ لڑکی مجھ پر طلاق ہے“ تو اس صورت میں مجموعی طور پر مذکورہ شخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں، نکاح ختم ہوگیا ہے، عورت اپنے شوہر پر حرمتِ  مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وكونه التحق بالصريح للعرف لاينافي وقوع البائن به، فإن الصريح قد يقع به البائن كتطليقة شديدة ونحوه: كما أن بعض الكنايات قد يقع به الرجعي، مثل اعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة.

والحاصل أنه لما تعورف به الطلاق صار معناه تحريم الزوجة، وتحريمها لا يكون إلا بالبائن، هذا غاية ما ظهر لي في هذا المقام، وعليه فلا حاجة إلى ما أجاب به في البزازية من أن المتعارف به إيقاع البائن، لما علمت مما يرد عليه، والله سبحانه وتعالى أعلم".

(3 /300، باب الکنایات، ط؛ سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے: 

"فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضاً حتى لايحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولايجري اللعان بينهما ولايجري التوارث ولايحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية". (3/187، فصل فی حکم الطلاق البائن ، ط: سعید)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201939

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے