بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنا / ایک طلاق رجعی کا حکم


سوال

میری بیوی مجھ سے بہت لڑتی ہے، وہ مجھ سے باربار چھوٹی چھوٹی باتوں پر طلاق مانگتی ہے،  میں ہر دفعہ  اس کو  اگنور کرتا ہوں، اور اس کو  یہ کہتا ہوں کہ طلاق مانگنا بُری بات ہے، دو مہینے پہلے میری بیوی نے مجھ سے اپنے والدین کے سامنے طلاق مانگی اور میری والدہ کے سامنے بھی، میں نے سوچا کہ وہ غصے میں ہے اور اس کے والد نے بھی کہا کہ ایک دو دن میں صحیح ہوجائے گی، دو دن میں نے اس کے والد کو فون کیا  تو اس کے والد نے کہا کہ وہ تو طلاق مانگ رہی ہے، میں نے بہت کوشش کی مسئلہ حل ہوجائے، لیکن پھر میں نے اس کو ایک طلاق دے دی، اب مجھے  یہ سمجھنا ہے کہ اس صورت حال میں کیا فتوی ہے؟

 

جواب

 شادی کے بعد عورت کا  بلاوجہ شوہر سے ناراض ہوکر میکہ میں  رہنا اور شوہر کے بلانے کے باوجود نہ آنا  سخت گناہ ہے، احادیثِ مبارکہ میں  ایسی عورت کے بارے میں   سخت وعیدیں آئی ہیں، اور جو عورت شوہر کی فرماں برداری  اور اطاعت کرے اس کی بڑی فضیلت  بیان  کی گئی ہے۔ 

        حدیثِ مبارک میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح»". (مشکاۃ المصابیح، 2/280،  باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)

ترجمہ:  رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی مرد اپنی عورت کو ہم بستر ہونے کے لیے بلائے اور وہ انکار کردے، اور پھر شوہر (اس انکار کی وجہ سے) رات بھر غصہ کی حالت میں رہے  تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے  رہتے ہیں۔(مظاہر حق، 3/358، ط:ؒ  دارالاشاعت)

اسی طرح عورت کا  شدید مجبوری کے بغیر شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، حدیثِ مبارک میں آتا ہے کہ جو عورت  بغیر کسی مجبوری کے  اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرےاس پر جنت کی خوش بو حرام ہے۔

         سنن أبی داود  میں ہے:

"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقاً في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة»". (1/310، باب الخلع، ط: حقانیہ)

لہذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعہ کے مطابق اور درست ہے تو آپ کی بیوی کا یہ طرز عمل شرعاً درست نہیں تھا، تاہم جب آپ نے بیوی کے مطالبہ پر اسے ایک صریح طلاق دے دی ہے تو اس سے بیوی پر ایک طلاق رجعی  واقع ہوگئی ہے، بیوی کی عدت( مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ) میں آپ کو رجوع کا حق ہے، عدت میں رجوع کرلینے سے نکاح برقرار رہے گا، اور اگر عدت میں رجوع نہیں کیا تو  بیوی کی عدت ختم ہوتے ہی نکاح ختم ہوجائے گا، اس کے بعد باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ عقد نکاح کرنا ہوگا، اور آئندہ کے لیے شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200865

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے