بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی میکہ بیٹھ جائے تو کیا کرے؟


سوال

5 ۔6 سال سے بیوی میکے میں ہے، اس پورے عرصے میں شوہر نے ہر کوشش کی بیوی کو منانے کی، جب کہ گھر بھی اپنا ہے، ضرورت سے زیادہ سہولت بھی ہے ، شوہر بھی دین دار ہے، جوائنٹ فیملی کا بھی مسئلہ نہیں ہے، سات سال کی بیٹی بھی ہے، یہیں پے بات کو مختصر کرتا ہوں،  حضرات کے مشورے سے آگے بڑھنا چاہتا ہوں!

جواب

تمام سہولیات کے باوجود بیوی کس بنیاد پر میکہ بیٹھی ہوئی ہے؟  سائل نے اس کی وضاحت نہیں کی، اگر بیوی کا کوئی معقول عذر ہے تو اے دور کرنے کی کوشش کرے ، دونوں طرف کے خاندانوں کے بڑے  بیٹھ  جائیں اور جس قدر نرمی کے ساتھ ہوسکے جانبین کے حقوق کی رعایت رکھتے ہوئے مسائل حل کرکے نباہ  کی کوشش کریں، اگرتمام تر کوششوں کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو  اور نباہ کی کوئی صورت نہ بنے تو ایک طلاق دے کر علیحدہ کردیا جائے، اور بچی کے حوالے سے کفالت کے معاملات بھی یہی پنچائیت طے کروالے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(ولا بأس به عند الحاجة للشقاق بعدم الوفاق)

قال العلامة الشامي:

"لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم، وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بین الزوجین اختلاف أن یجتمع أهلهما لیصلحوا بینهما، فإن لم یصطلحا جاز الطلاق والخلع". (شامی:۳/۴۴۱ط:سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200279

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں