بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی صاحبِ نصاب نہ ہو تو شوہر کا اسے حج کرانا یا اس کی طرف سے قربانی کرنا


سوال

ایک شخص صاحبِ نصاب ہے اور بیوی صاحبِ نصاب نہیں ،اب وہ شخص حج پر جاتا ہے اور بیوی اس سے اصرار کرتی ہے کہ مجھے بھی اپنے ساتھ حج پر لے جائے، لیکن شوہر اس پر راضی نہیں،شوہر کہتا ہے کہ تم صاحبِ نصاب نہیں ،اس ضمن میں کئی سوال ہیں:

1۔ کیا اس شخص پر بیوی کو حج پر لے جانا ضروری ہے ؟

2۔ کیا بیوی کا اتنا اصرار کہ شوہر بہ امرِ مجبوری اس کو حج پر لے جائے، لیکن شوہر اس پر راضی نہیں ٹھیک ہے؟

3۔ اگر اس کی بیوی اس بار حج کرے،  اگر اس کے بعد وہ صاحبِ  نصاب ہو جائے تو یہی حج کافی ہے یا پھر حج کرنا ہوگا ؟

4۔ شوہر کے پاس بہت سا مال و دولت ہے تو بیوی کا کتنا حق بنتا ہے اس کے مال و دولت میں؟ کیا شوہر پر بیوی کو حج پر لے جانا یا قربانی اس کی طرف سے کرنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی اس شخص پر واجب ہے جو صاحبِ نصاب ہے، جب کہ حج اس شخص پر فرض ہے جس کے پاس اشہرِ حج میں سفرِ حج کے لیے آنے جانے اور وہاں قیام کے اخراجات ہوں، اور واپس آنے تک گھر والوں کا خرچہ دے کر جائے، لہذا:

1۔ مذکورہ شخص پر لازم نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو حج پر لے کر جائے، لیکن اگر وہ اس کی دل جوئی اور خوشی کے لیے کم از کم ایک مرتبہ ہی کیوں نہ ہو ساتھ حج پر لے جائے تو اس کا ثواب شوہر کو ملے گا۔

2۔ بیوی کے لیےاصرار کرنا درست نہیں، خصوصاً جب کہ شوہر دل سے راضی نہ ہو۔

3۔ اگر حج فرض ہونے سے پہلے حج کرلیا تو یہ فرض حج  کی جانب سے کافی ہوگا، اس کے بعد اگر حج کی فرضیت کی شرائط پائی گئیں تو حج دوبارہ کرنا ضروری نہیں۔

4۔ اگرشوہر کے پاس بہت سا مال و دولت ہے تو بھی اس کی زندگی میں اس کے مال پر بیوی کے لیے (میاں بیوی دونوں کی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے) نان و نفقہ، لباس و پوشاک اور رہائش   کے علاوہ کوئی اضافی حق نہیں،  لہذا شوہر کے ذمہ اپنی بیوی کی جانب سے قربانی کرنا یا اسے حج کرانا ضروری نہیں۔

الفتاوى الهندية  (5 / 451)

"الفقير إذا حج ماشياً ثم أيسر لا حج عليه، هكذا في فتاوى قاضي خان". فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200726

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے