بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ذو القعدة 1441ھ- 03 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی اور غلام میں فرق


سوال

بیوی اور غلام میں کوئی فرق ہے؟ جب شوہر کی ہر بات ماننی ہے تو اپنی مرضی تو بیوی کبھی نہیں چلا سکتی۔ 

جواب

ایک آزاد عورت جو بیوی ہونے کے مقدس منصب پر فائز ہو اس کو زر خرید  غلام پر قیاس کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ غلام اپنی ذات میں پابند ہے کہ اپنے آقا ومالک کی بات مانے ، جب کہ بیوی کے لیئے شوہر کی بات ماننا بلکہ اپنی مرضی کو شوہر کی مرضی پر قربان کردینا ابدی سعادت کا ذریعہ ہے۔ غلام ضابطہ کے تحت پابند ہے اپنے مالک کی فرمانبرداری کا جب کہ بیوی کے لیئے یہ پابندی رابطہ کے تحت ہے، غلام کے لیئے حکم ہے کہ مالک کی اطاعت کرے جب کہ بیوی کے لیئے شوہر کی اطؑاعت ترغیبا ہے۔اور پھر ایسا کہاں ہوتا ہے کہ بیوی کو اپنی مرضی کبھی نہ چلا سکے، بیوی بیوی بن کے رہے اور شوہر کی تابعدار بن کے رہے تو شوہر بھی اس کے نتیجہ میں بیوی کی خواہشات کا احترام کرتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کی خانگی سیرت کا اور ان احادیث کا مطالعہ کریں جن میں عورتوں کے ساتھ حسن خلق اور حسن معاشرت کا حکم دیا گیا ہے، آپ کو اندازہ ہوگا کہ ایک عورت کو بحیثیت بیوی ہونے کے کتنا تقدس اور کتنے حقوق حاصل ہیں اوروہ تمام غبار دور ہوجائیگا جس کی بنا پر بیوی کا مقام سائل کی نظر مٰیں دھندلا کر غلام کے ساتھ مل گیا ہے۔

بہرحال بیوی پر شوہر کی ہر بات ماننا فرض نہیں بلکہ زوجیت کے متعلق جو امور ہوں ان میں شوہر کی اطاعت واجب ہے۔واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143710200012

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں