بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1441ھ- 12 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوہ کا ترکہ میں حصہ


سوال

والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کی جائیداد میں والدہ کا حصہ ہوتا ہے، اگر ہاں تو کتنا؟

جواب

والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کی جائیداد میں  والدہ (یعنی ان کی بیوہ ) کا حصہ ہوتا ہے، اولاد موجود ہوں تو بیوہ کو حقوقِ متقدمہ (تجہیزوتکفین، وصیت اور قرض) کی ادائیگی کے بعد  کل ترکہ کا آٹھوں حصہ ملتا ہے،اور اگر  مرحوم کی کوئی اولاد  موجود نہ ہو تو   اس صورت میں اس کی بیوہ کو حقوقِ متقدمہ کی ادائیگی کے بعد کل مال کا چوتھائی حصہ ملتا ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے