بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوہ چار بیٹے اور تین بیٹیوں میں تقسیمِ ترکہ


سوال

ترکہ  80،00000 ہے، زید میت ہے، اس کے زندہ ورثاء میں  بیوہ، 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں،سب میں میراث کس طرح تقسیم کر یں گے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میںمرحوم  کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہمرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو اسے ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحومنے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ  کو  88 حصوں میں تقسیم کرکے 11 حصے بیوہ کو، 14 حصے ہر ایک بیٹے کو اور 7 حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

یعنی  8000000  روپے میں سے 1000000 روپے مرحوم کی  بیوہ کو، 1272727.27 روپے ہر ایک بیٹے کو اور 636363.63 روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144010201207

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں