بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، دو بیٹیوں اور بھائی میں میراث کی تقسیم


سوال

میرے  نانا اور دادا آپس میں بھائی بھائی تھے جو صرف دو تھے، میرے نانا کی دوبیٹیاں ہیں، بیٹا کوئی نہیں میرے نانا اور دادا کی زمین مشترک ہے، میرے نانا جو دادا سے پہلے فوت ہوچکے تھے، بعد میں دادا فوت ہوگئے، اس کے بعد دادی اور پھر اس کے بعد نانی فوت ہوگئے تو میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ اس میں میرے نانا کی بیٹیوں کا کتنا حصہ ہو گا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کے ناناکے انتقال کے وقت ان کے موجود ورثاء میں ان کی بیوہ  (آپ کی نانی)، دو بیٹیاں  اور ایک بھائی (دادا)  موجود تھے۔

ایسی صورت میں جس قدر زمین میں آپ کے نانا کا حصہ تھا، اس قدر ان کے ورثاء میں تقسیم ہوگا،  اس کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق متقدمہ (تجہیز وتکفین، قرض، وصیت) کی ادائیگی کے بعد کل ترکہ کو 24 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ (آپ کی نانی) کو تین حصے، ہر ایک بیٹی کو آٹھ آٹھ حصے، اور مرحوم کے بھائی (آپ کے دادا) کو پانچ حصے ملیں گے۔

یعنی مثلاً 100 روپے میں سے مرحوم کی بیوہ کو 12.5، ہر ایک بیٹی کو 33.33 ، اور بھائی کو 20.83 روپے ملیں گے۔

بعد ازاں نانی کے انتقال کے بعد ان کا حصہ ان کے ورثاء میں تقسیم ہوگا، اور دادا کے انتقال کے بعد ان کا حصہ ان کے ورثاء میں تقسیم ہوگا، جس کی تفصیل کسی قریبی دارالافتاء سے رجوع کرکے معلوم کرلیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200194

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے