بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شعبان 1441ھ- 03 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوٹی پارلر کی ملازمت کا حکم


سوال

کیا پارلر کی ملازمت حلال ہے یا حرام ہے؟

جواب

اگر سوال عورت کے  بیوٹی پارلر کی ملازمت سے متعلق ہے تو حکم یہ ہے کہ شریعت نے عورت کو گھر میں رہنے کا حکم دیاہے،بلاضرورت عورت کا گھر سے باہر جانااور کسی بھی ملازمت سے منسلک ہونادرست نہیں، البتہ اگر کسی مجبوری کی بنا پر عورت بیوٹی پارلر میں ملازمت کرتی ہے تو شرائط کے ساتھ اس کی اجازت ہوگی مثلاً: وہاں کاماحول غیر شرعی نہ ہو۔مردوں سے اختلاط نہ ہو، پارلر صرف عورتوں کی زیب وزینت کے لیے مختص ہو،کسی ناجائز امرکاارتکاب نہ ہومثلاً: عورتوں کے سر کے بالوں کا کاٹنا ،غیر شرعی بھنویں بنوانا وغیرہ۔

اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے فتاوی بینات جلد چہارم ، ص:403 تا 407 ،طبع مکتبہ بینات بنوری ٹاؤن ملاحظہ فرمائیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200067

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے