بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک کی طرف سے مفت سروس کا ملنا


سوال

بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ بھی مختلف اقسام کے ہوتے ہیں،  جن میں سے ایک قسم یہ ہے کہ اگر ہم بینک کی مجوزہ رقم یا اس سے زیادہ رکھتے ہیں تو بینک سروسز فراہم کرنے کی کوئی فیس نہیں لیتا۔ اور یہ سہولیات مفت فراہم کر تا ہے،  اگر رقم اس مقدار سے کم ہوجائے تو وہ فیس کٹوتی شروع کر دیتے ہیں، وہ مجوزہ رقم ہم بینک سے کسی بھی وقت نکال سکتے ہیں،  بینک کی زیادہ تر کمائی سود کے گرد ہے۔ سوال یہ ہے کہ بینک جو سہولیات مفت دے رہا ہے تو کیا یہ اسلامی نقطہ نظر سے حلال ہے؟ اس میں ہمارے مال میں کوئی سود کا عنصر شامل تو نہیں ہوتا؟

جواب

مخصوص رقم بینک کے اکاؤنٹ میں رکھنے پر ملنے والی سہولت قرض کے بدلے نفع اٹھانا ہے جو کہ ناجائز ہے؛ لہذا بینک کی اس طرح کی مفت سہولیات بھی نہ وصول کی جائیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200221

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے