بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1441ھ- 04 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک کو کرایہ پر جگہ دینا


سوال

مفتیان کرام کی کیا رائے ہے؟ ہم نے پچھلے  14 سال سے حبیب بینک کو پراپرٹی کرائے پر دے رکھی ہے اور پہلے سے ہی بینک کے لیے بنی تھی، اور جیسا کہ آپ کو  پتا ہے "حبیب بینک"  ایک سودی بینک ہے۔ اس مسئلہ کو واضح فرما کر ممنون فرمائیں۔

جواب

بینک ایک سودی ادارہ ہے جہاں سودی لین دین ہوتاہے جو گناہِ کبیرہ ہے، ایسے سودی ادارےکواپنی جائیداد کرایہ پردینا گناہ کے کام میں معاونت ہے جوکہ شرعاً ناجائزہے، اورجوکرایہ بینک ادا کرے گا،ظاہرہے وہ اپنی سودی آمدنی سے ادا کرے گاجو کہ جائز نہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143905200050

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے