بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک شیئرز سے جان چھڑانے کی صورت


سوال

میرے والدین کے کچھ بینک شیئرز ہیں، اب میں  اُن سے جان چھڑانا چاہتا ہوں تو کیا یہ طریقہ اختیار کر سکتا ہوں کہ   ابھی جتنے شیئرز ہیں اُن سب کو بیچ کر اصل رقم حاصل کر لوں (بشمول بونس شیئرز کے) اور منافع کو بھی اسی میں شامل کر لوں اور اصل رقم سے جو کچھ زائد ہے اس کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دوں؟

جواب

بینک شیئرز خریدنا جائز نہیں، اس پر ملنے والے منافع اور بونس شیئرز کا وصول کرنا بھی درست نہیں،  لیکن اگر  شیئرز خریدے جا چکے ہیں اور بونس شیئرز و منافع وصول کیے جا چکے ہیں اور اب ان سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو اس کا یہی طریقہ ہے کہ اصل رقم سے زائد جتنی رقم حاصل ہو خواہ وہ منافع ہو یا بونس شیئرز ہوں اس کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دیں۔ 

صحيح مسلم (3/ 1219)
"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»"
.

المبسوط للسرخسي (12/ 172)
" والسبيل في الكسب الخبيث التصدق"
.  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201348

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے