بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1441ھ- 04 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک سے قرضہ لینا


سوال

 کیا بینک سےقرض لے کر کاروبار میں لگا سکتے ہیں؟  میری دوکان ہے، میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں، بینک سے چالیس ہزار لے کر پچاس ہزاردینے پڑتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

بینک سے قرض لے کر جو اضافی رقم دی جاتی ہے وہ سود ہے، جس  کا لینا ، دینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے ،قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں  سودی معاملات کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ؛ اس لیے اس سے احتراز  لازم اور ضروری ہےانجام کارسودی قرضہ کاروبار میں ترقی کے بجائے تنزلی کا ذریعہ بنتاہے؛ لہذااپنی وسعت کے مطابق کام کریں، سودی قرضہ نہ لیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143902200069

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے