بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 شوال 1441ھ- 30 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

بیمار کا عمرہ کرنا


سوال

 ہم اپنے والد صاحب کے ساتھ عمرہ پر جانا چاہتے ہیں ،ان کو اپنے ہر کام کے لیے ایک بندہ کی ضرورت ہے۔اور کبھی ان کو باتھ روم جانا بھی کنٹرول میں نہیں رہتا۔ایسی صورت میں ہم اپنے والد کے ساتھ عمرہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

آپ اپنے والد کے ساتھ ضرور عمرہ کریں اور ان کی خدمت کرکے ان کو عمرہ کروائیں۔ عمرے کے سفر میں والد کی خدمت سے ان شاء اللہ بے پناہ اجر بھی ملے گا اور دنیا میں بھی اس کی برکات محسوس کریں گے۔البتہ پاکی کا خیال رکھیں خصوصاً مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی میں۔ قضائے حاجت سے فراغت کے بعد جلد انہیں حرم لے جائیں، اور جتنا وقت حاجت کا تقاضا نہ ہوتاہو اتنی دیر رک کر واپس رہائش گاہ آجائیں اور  رش کے وقت کے علاوہ کسی وقت لے کر جائیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200163

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے