بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو الحجة 1441ھ- 03 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بی سی میں ممبر کا نام نکلنے کے بعد اس پر بقایا بیسیاں معاف ہوجانے کی اسکیم کا حکم


سوال

میں ایک کمیٹی رکھنا چاہتا ہوں جو   40 مہینوں پر مشتمل ہوگی، جس کا ٹوکن  نکلے گا اس کی آگے کی قسطیں معاف، اور آخر میں ممبر اپنے پیسے وصول  کرے گا، مجھے یہ بتائیں کہ   جس  ممبر کا  نام نکلے گا اس کو باقی معاف، یہ صحیح ہے یا غلط؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بیسی کا طریقہ کار شرعاً جائز نہیں ہے،   کیوں کہ ممبران کی طرف سے جمع کرائی رقم کی حیثیت قرض کی ہے، اور جس ممبر کا پہلے نام نکل رہا ہے  اس کی بقایا اقساط معاف ہوجاتی ہیں تو اس ممبر کو یہ فائدہ قرض کی وجہ سے ہو رہا ہے، اور قرض پر مشروط نفع سود ہے۔

اور اس میں قمار (جوئے) کی مشابہت بھی پائی جاتی ہے،  قمار کی حقیقت یہ ہے کہ ایسا معاملہ کیا جائے جو نفع ونقصان کے خطرے  کی بنیاد  پرہو، اور اس بیسی  میں بھی ممبر نفع اور  اور اپنی باقی بیسیاں معاف کرانے کی غرض سے رقم جمع کراتے ہیں، لیکن معاملہ قرعہ اندازی اور اس میں نام آنے پر مشروط ہونے کی وجہ سے یہ لوگ خطرے میں رہتے ہیں کہ نفع ہوگا یا نہیں؛ لہذا یہ بیسی شرعاً ناجائز ہے۔ اس بیسی  کو چلانا اور اس کا حصہ بننا دونوں جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

بی سی کی جائز صورت اور اَحکام جاننے کے لیے درج ذیل لنکس پر فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

بی سی کا حکم

’’بی سی‘‘اور ’’کمیٹی‘‘ سسٹم کی شرعی حیثیت

کمیٹی یا بی سی کا شرعی حکم

بی سی ڈالنے کی شرائط اور متعلقہ تفصیل


فتوی نمبر : 144105200614

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں