بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بیت المقدس کی طرف پاؤں کرکے لیٹنا


سوال

اکثر لوگوں سے سنا ہے کہ شمال کی طرف بیت المقدس واقع ہے؛ لہذا اس سمت پاؤں کر کے لیٹنا گناہ ہے،  براہِ مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ بیت المقدس کا شمال کی سمت میں ہونا مکہ مکرمہ کے حساب سے ہے، پاکستان میں بیت المقدس مغرب کی طرف ہے، باقی کسی بھی مقام و مکان سے بیت المقدس کی طرف پاؤں کرنا یا پاؤں کرکے لیٹنا گناہ نہیں ہے۔ یہ ادب صرف بیت اللہ کے ساتھ خاص ہے۔

لما في بذل المجهول في حل سنن أبي داؤد، كتاب الطهارة:

"(نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تستقبل القبلتين) أي الكعبة وبيت المقدس (ببول وغائط) فيحتمل أنه احترام لبيت المقدس مدة كونه قبلة لنا، أو لأن باستقباله تستدبر الكعبة لمن كان بنحو طيبة، فليس النهي لحرمة القدس". (رقم الحديث 10، الطبعة الثالثة، (1/199) دار البشائر الإسلامية) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144104201076

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں