بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

بہن کا بھائی کو زکاۃ دینا


سوال

کیا بہن بھائی کو  زکاۃ دے سکتی ہے؟

جواب

اگر مذکورہ بھائی کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے مساوی نقدرقم یا مالِ تجارت یا سونا چاندی  اور مالِ تجارت جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے مساوی ہو،موجود نہیں ہے اور نہ ہی ضروریاتِ زندگی سے زائد اتنی مالیت کا سامان  اس کے پاس موجود ہے تو  اس صورت میں بہن اپنے بھائی کو زکاۃ دے سکتی ہے اور اس میں دوہرا اجر (یعنی ادائیگی  زکاۃ  کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی  کااجر بھی) ہوگا، بشرطیکہ سید خاندان سے نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200296

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے