بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شعبان 1441ھ- 08 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

بہت سارے ٹائلٹ پیپر ایک جگہ کر کے ان کو بار بار استنجا کے لیے استعمال کرنا


سوال

بہت سارے ٹائلٹ پیپر ایک جگہ کر کے ان کو بار بار استنجا کے لیے استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

اگر ٹائلٹ  پیپر استعمال شدہ ہو اور اس پر کسی قسم کی نجاست لگی ہو یا کوئی کھانے وغیرہ کی باقیات لگی ہوں تو ا س سے استنجا کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو  ایسے ٹائلٹ پیپر کو استنجا کے لیے استعمال کرنا جائز ہے۔ ٹائلٹ پیپر چوں کہ جذب کرتاہے، اس لیے کئی پیپر بھی جمع کرکے اگر ایک مرتبہ استنجا کیا جائے تو عموماً تمام پیپرز کی تہہ تک تری کا اثر پہنچتاہے، اس لیے تہہ بہ تہہ جمع کرکے بار بار استنجا میں استعمال کرنے کے بجائے، یکے بعد دیگرے ایک ایک کرکے پیپر استعمال کیے جائیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 340):
"وحجر استنجي به إلا بحرف آخر". 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 339):
"(قوله: وكره تحريماً إلخ) كذا استظهره في البحر للنهي الوارد في ذلك أي: فيما ذكره في الكنز بقوله: لا بعظم وروث وطعام ويمين.
أقول: أما العظم والروث فالنهي ورد فيهما صريحاً في صحيح مسلم: «لما سأله الجن الزاد، فقال: لكم كل عظم ذكر اسم الله عليه، يقع في أيديكم أوفر ما كان لحماً وكل بعرة علف لدوابكم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:  فلا تستنجوا بهما؛ فإنهما طعام إخوانكم». وعلل في الهداية للروث بالنجاسة، وإليه يشير قوله صلى الله عليه وسلم في حديث آخر: «إنها ركس»، لكن الظاهر أن هذا لايفيد التحريم، ومثله يقال في الاستنجاء بحجر استنجي به إلا أن يكون فيه نهي أيضاً. قال في الحلية: وإذا ثبت النهي في مطعوم الجن وعلف دوابهم ففي مطعوم الإنس وعلف دوابهم بالأولى".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200748

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے