بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جمادى الاخرى 1441ھ- 19 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے رونے کی وجہ سے تراویح چھوڑنا


سوال

گھر کے کاموں یا بچوں کے تنگ کرنے یا رونے کی وجہ سے اگر تراویح چھوڑ دیں یا آدھی پڑھیں، مثلاً آٹھ رکعات یا بارہ رکعات تو کیا اس کا گناہ ہوگا؟

جواب

شیر خوار بچے یا بہت چھوٹے بچے جو خود کو سنبھال نہیں سکتے، ان کے رونے یا ناقابلِ برداشت حد تک تنگ کرنے کی صورت میں اگر کبھی  تراویح کی نماز چھوٹ جائے تو اس  مجبوری کی وجہ سے امید ہے ترکِ سنت کا گناہ نہ ہوگا ، البتہ  اس کے ترک کرنے کی عادت بنالینا گناہ ہے،یہی حکم آدھی تراویح پڑھنے کا بھی ہے۔

معمول کے گھر کے کاموں کی وجہ سے تراویح کی نماز چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200071

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے