بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بچوں کو مدرسہ میں سفید لباس کا پابند بنانا


سوال

کیا مدرسے میں بچوں کو سفید شلوار قمیص پہن کے آنے میں پابند کرنا ٹھیک ہے؟ کیا اس سے بچوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی کہ اس کے بغیر قرآن کی تعلیم ہی حاصل نہیں کر سکتے؟

جواب

احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید لباس پہننے کی ترغیب  دی ہے اور اس کو بہترین لباس بھی قرار دیا ہے، گو اس حدیث کی وجہ سے سفید لباس کا پہننا اور دوسرے رنگ کے  لباس کا ترک کرنا ضروری نہیں، لیکن اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند کا اندازا ہوتا ہے،   اسی وجہ سے بعض مدارس میں بچوں کے لیے سفید لباس کی پابندی ضروری ہوتی ہے، اس میں حرج محسوس نہ کرنا چاہیے۔

نیز  اس مسئلہ کا تعلق چوں کہ انتظامی امور سے ہے؛ اس لیے اگر کسی کو اس پر کوئی اعتراض ہو تو وہ متعلقہ مدرسہ کے منتظمین سے بات کر کے مسئلہ کو حل کر سکتا ہے۔ اور اگر کسی مدرسے میں سفید لباس کی شرط ہو اور بچہ یا اس کے سرپرست سفید لباس کی پابندی نہ کرسکتے ہوں تو دیگر بہت سے مدارس اور حفظ کے مستند ادارے قائم ہیں جہاں بچوں کے لیے سفید لباس کی شرط نہیں ہے، ایسے ادارے میں بچے کو قرآنِ مجید حفظ کرادیا جائے، نیز بچے کو  مثبت انداز میں سمجھا دیا جائے تو بچے کی حوصلہ شکنی بھی نہیں ہوگی اور وہ قرآنِ کریم کی تعلیم سے بھی محروم نہیں ہوگا۔

سنن النسائي - ترقيم أبي غدة- مع أحكام الألباني (8/ 205):
"عن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: عليكم بالبياض من الثياب فليلبسها أحياؤكم وكفنوا فيها موتاكم؛ فإنها من خير ثيابكم".

ترجمہ: حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہیں سفید کپڑے اختیار کرنے چاہییں، تمہارے زندہ لوگ بھی سفید لباس پہنیں اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن بھی دو؛ اس لیے کہ یہ تمہارے لباس میں سے بہترین لباس ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200593

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے