بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بن باپ بچوں کے بارے میں ایک سوال


سوال

جو بچہ ناجائز پیدا ہوتا ہے اس میں اس کا اپنا کوئی قصور نہیں ہوتا ہے، لیکن سوسائٹی اس کو حرامی کے نام سے بلاتی ہے۔ اس بچے کو اس کے والدین چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، اور پھر وہ ناجائز بچہ سوسائٹی ہی کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کس کے ہاتھ لگے گا اور بچے کا مستقبل کیا بنے گا، یقینا اچھا نہیں ہوگا، وہ اخلاقی کمیوں کوتاہیوں میں ملوث ہوگا۔ چور ڈاکو رہزن بنے گا، کیا اس بچے کا حق نہیں ہے کہ وہ مسلمان بنے؟ یہ تو اس کا پیدائشی حق ہے، پلیز میری رہنمائی کریں احادیث وقرآن کی روشنی میں۔

جواب

ناجائز بچہ بھی رحمت اور تربیت کا اسی طرح مستحق ہے، جتنا ایک جائز بچہ ان کا مستحق ہوتا ہے، یہ معاشرے کا قصور ہے کہ وہ اس بچے کو اس کے ناکردہ گناہ کی سزا دیتا ہے۔ اسلامی احکام کے مطابق  لاوارث بچوں کی تربیت اور ان کی نشونما  حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ نیز مسلمانوں کی آبادی والے علاقے میں پائے جانے والا لاوارث بچہ بھی مسلمان شمار ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143707200035

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے