بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جمادى الاخرى 1441ھ- 23 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

بلند جگہ پر نماز پڑھنے والے کے سامنے نیچے سے گزرنا


سوال

نمازی کے قیام کی جگہ کا فرش ڈیڑھ فٹ بلند اور حدودِ مسجد سے خارج ہے۔صحنِ مسجد جو نمازی کے قیام کی جگہ سے ڈیڑھ فٹ نیچے ہے۔کیا  مذکورہ مقام پر نماز پڑھنے والے کے آگے سے یعنی صحنِ مسجد سے گزرنا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر نمازی اونچی جگہ پر نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے سامنے نیچے سے کوئی گزرے تو اگر گزرنے والے اور نماز ی کے آدھے یا آدھے سے زیادہ اعضاء کی محاذات (آمنے سامنے) ہورہی ہو، اس نماز کے سامنے سے گزرنا  جائز نہیں ہوگا،  اگر جسم کے آدھے یا اس سے کم حصے کی محاذات ہورہی ہو تو اس کے سامنے سے گزرنا جائز ہوگا۔ مذکورہ صورت میں چوں کہ ڈیڑھ فٹ اتنی مقدار نہیں ہے جو عموماً کسی انسان کے آدھے قد کے برابر ہو، اس لیے اتنی مقدار ہوتے ہوئے نماز کے آگے سے بلاحائل گزرنا درست نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 634):
" (أو) مروره (أسفل من الدكان أمام المصلي لو كان يصلي عليها) أي الدكان (بشرط محاذاة بعض أعضاء المار بعض أعضائه، وكذا سطح وسرير وكل مرتفع) دون قامة المار وقيل دون السترة كما في غرر الأذكار (وإن أثم المار).

(قوله: أو مروره إلخ) مرفوع بالعطف على مرور مار: أي لا يفسدها أيضا مروره ذلك وإن أثم المار، فقوله بشرط إلخ قيد للإثم كما تقدم. قال القهستاني: والدكان الموضع المرتفع كالسطح والسرير وهو بالضم والتشديد في الأصل فارسي معرب كما في الصحاح، أو عربي؛ من دكنت المتاع: إذا نضت بعضه فوق بعض كما في المقاييس. اهـ. (قوله: بعض أعضاء المار إلخ) قال في شرح المنية: لا يخفى أن ليس المراد محاذاة أعضاء المار جميع أعضاء المصلي فإنه لايتأتى إلا إذا اتحد مكان المرور ومكان الصلاة في العلو والتسفل بل بعض الأعضاء بعضًا، وهو يصدق على محاذاة رأس المار قدمي المصلي اهـ لكن في القهستاني: ومحاذاة الأعضاء للأعضاء يستوي فيه جميع أعضاء المار هو الصحيح، كما في التتمة؛ وأعضاء المصلي كلها كما قاله بعضهم أو أكثرها كما قاله آخرون كما في الكرماني. وفيه إشعار بأنه لو حاذى أقلها أو نصفها لم يكره وفي الزاد أنه يكره إذا حاذى نصفه الأسفل النصف الأعلى من المصلي كما إذا كان المار على فرس اهـ تأمل". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200674

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے